دہشت ناک
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - بھیانک، ڈراؤنا۔ "اور تمام محفل پر ایک دہشت ناک سناٹا چھا گیا۔" ( ١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ٢٤٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دہشت' کے ساتھ فارسی زبان سے لاحقۂ صفت 'ناک' لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٩٨ء کو "قوانین حرب و ضرب" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بھیانک، ڈراؤنا۔ "اور تمام محفل پر ایک دہشت ناک سناٹا چھا گیا۔" ( ١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ٢٤٣ )